مدینہ منورہ میں ایک نوجوان لڑکے کو صرف “یا حسین” لکھی ہوئی ٹی شرٹ پہننے پر سعودی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اسے “بدعت” اور شریعت کے خلاف قرار دے کر حراست میں لے لیا۔
اس کے برعکس سعودی عرب میں کنسرٹ، ڈانس، فحاشی اور عریانی عام ہے۔ شاکیرا، سلمان خان جیسے فنکاروں کے پروگرام ہوتے ہیں، خواتین کی عریاں پرفارمنسز ہوتی ہیں، اور بڑے بڑے فحاشی کے اڈے کھلے عام چل رہے ہیں۔ سعودی یہود کے نزدیک یہ سب حلال ہے، لیکن اہل بیتؑ کے نام “یا حسین” کہنا بدعت بن جاتا ہے۔

