امریکی اخبار پولیٹیکو نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے دوران پٹرول کی قیمتیں کئی ریاستوں میں 5 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ واشنگٹن ریاست میں یہ ریکارڈ سطح 5.78 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ اضافہ یوکرین جنگ کے وقت کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لمبے فاصلے کے سفر کرنے والے امریکیوں کی تعداد گزشتہ برس کے 69 فیصد سے کم ہو کر اب صرف 56 فیصد رہ گئی ہے۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 190.47 ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
پولیٹیکو نے واضح کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری تعطل ہے۔ عام امریکی اب ان جنگی پالیسیوں کی بھاری قیمت اپنی جیب سے ادا کرنے پر مجبور ہیں، جو وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

