کشمیر میں نسلیں اجڑ گئیں، لاکھوں مائیں بیٹے ہار گئیں، نوجوانوں کی آنکھوں میں پیلٹ گنیں اُتاری گئیں، لیکن عالمِ اسلام کی قیادت؟ وہ بدستور “تحمل” اور “برداشت” کے بیانات میں مصروف ہے۔ اور امامِ کعبہ؟ ان کا اندازِ خطابت ہمیشہ نرم، لہجہ ہمیشہ میٹھا، لیکن موضوعات… وہاں کشمیر کا ذکر گویا گناہ کبیرہ بن چکا ہو۔
کیا آپ نے کبھی کسی امامِ کعبہ یا کسی “مفتیِ اعظم” کو کشمیر کے مظلوموں کے لیے دو بول بولتے سنا؟ لگتا ہے ان کے منہ میں صرف مصلحت کا حلوہ بھرا ہے۔ زبان جیسے صرف بادشاہوں کی مدح سرائی کے لیے بنی ہو۔ کشمیر پر بات کرنا شاید ان کی لغت میں ہی شامل نہیں۔
یہ وہی منبر ہے جہاں سے کبھی حق گوئی گونجا کرتی تھی۔ آج اس پر صرف “یکجہتی” کے کھوکھلے الفاظ رہ گئے ہیں، جن میں نہ آگ ہے، نہ آنسو، نہ غیرت۔ امت پوچھتی ہے: جب مکہ سے بھی مظلوموں کی آواز نہ اُٹھے تو پھر قبلہ کدھر ہے؟
کشمیر رو رہا ہے، لیکن امام خاموش ہے۔ شاید ان کے منہ میں واقعی حلوہ ہے — یا پھر کشمیر کی چیخیں حرم کے بلند میناروں تک پہنچ ہی نہیں پاتیں۔

